بھٹکل:8/ نومبر (ایس اؤنیوز)گذشتہ ایک سال سے نوٹ بندی کو لے کروزیر اعظم مودی نے جس طر ح شان جتائی گئی تھی اس سے معاشی تباہی کے سوا ملک میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔اور نوٹ بندی سے ملکی عوام کا کوئی بھلا نہیں ہواہے۔ وزیرا عظم ایک سال پہلے نوٹ بندی کے بھاشن کے دوران کئے وعدے کے مطابق سزا کے لئے تیار ہونے کا سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا(ایس ڈی پی آئی ) بھٹکل شاخ نے مطالبہ کرتے ہوئے بھٹکل اسسٹنٹ کمشنر کے توسط سے صدر ہند کو میمورنڈم سونپا۔
میمورنڈم کے مطابق نوٹ بندی سے غریب پریشان حال ہیں، بینکوں کے سامنے قطاروں میں کھڑے رہ کر جانیں گنوائی ہیں، ملکی بے روزگاری اور روزگاروں کے مسائل میں اضافہ ہورہاہے، چھوٹے صنعت کار قریب الختم ہیں، کارپوریٹ اور امیر غلط راستوں کے ذریعے اپنا کالادھن سفید میں منتقل کرلیا ہے، جن کو مرکزی حکومت پناہ میں لے رکھنے کا الزام لگایا۔
وزیرا عظم مودی نے اس وقت نوٹ بندی کا اعلان کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی تھی کہ ملک کے لئے یہ ایک تاریخی قدم ہے ، جس کے لئے وہ جواب دہ ہیں اور اگریہ حوصلہ شکن ،گھن چکر ثابت ہوتاہے تو عوامی سطح پر سزا کے مستحق ہونے کا اعلان کیا تھا۔ غالباً آج انہیں اپنی باتیں یاد نہیں ہیں۔ پچھلے ایک برس سے جس طرح ملک کی معیشت تباہی کی طرف رواں ہے یہ واضح ثبوت ہے کہ فیصلہ بے بنیاد اور مضحکہ خیز تھا۔ کروڑوں عوام بشمول عورتیں ،بچے ، بزرگ ، اپاہج وغیرہ کافی بری طرح متاثر ہوئے۔
میمورنڈم میں تحریر کیا گیا ہے کہ آج وزیر اعظم سے ملک کے عوام پوچھ رہے ہیں کہ نوٹ بندی سے کتنا کالادھن لایاگیا؟ کتنے جعلی نوٹ پکڑے گئے ؟ دہشت گردی پر کتنا اثر ہوا؟ تباہی کے سوا ملک میں کیا کیا تبدیلی رونما ہوئی؟ نوٹ بندی کے متاثرین کو کتنا معاوضہ اداکیاگیا ؟جیسے مطالبات لے کر ایس ڈی پی آئی نے صدر ہند کو میمورنڈم سونپا۔ ا س موقع پر ایس ڈی پی آئی کے ضلعی سکریٹری ظہیر احمد، یوسف ملا، عظیم کھومی ، سرفرازخان، سفیان وغیرہ موجود تھے۔